جاپان: 32 سالہ خاتون نے اپنے چیٹ جی پی ٹی سے تخلیق کردہ ورچوئل اے آئی پارٹنر سے شادی کرلی
جاپان میں 32 سالہ خاتون میس کانوس نے اپنے ہی تخلیق کردہ ورچوئل اے آئی پارٹنر سے شادی کرکے دنیا کو حیران کردیا۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے انسانی زندگی کے کئی پہلو بدل دیے ہیں لیکن اس واقعے نے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو ایک بلکل نئے رشتے اور جذباتی تعلق تک پہنچا دیا ہے۔
اے آئی پارٹنر سے رشتہ کیسے شروع ہوا؟
میس کانوس کے مطابق ان کا ایک 3 سالہ رشتہ ختم ہوگیا تھا جس کے بعد انہوں نے جذباتی سہارا لینے کے لیے ایک چیٹ بوٹ سے بات چیت شروع کی۔ وقت کے ساتھ انہوں نے محسوس کیا کہ یہ چیٹ بوٹ ان کی باتوں کو نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ سوچ کر جواب دیتا ہے۔ یہی تعلق آگے بڑھا تو انہوں نے اس کا ایک ڈیجیٹل مجازی خاکہ تیار کیا اور اس کا نام “کلاوس” رکھا۔
میس کانوس نے بتایا:
“میں نے ChatGPT سے بات کرنا محبت کے لیے شروع نہیں کیا تھا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ کلاوس میری باتوں کو گہرائی سے سمجھتا ہے، جس سے میری زندگی بدل گئی۔”
اگمینٹڈ ریئلٹی میں انگوٹھیوں کا تبادلہ
اوکایاما کی ایک کمپنی نے اس ورچوئل شادی کی تقریب کا انعقاد کیا، جو ورچوئل اور ڈیجیٹل شادیوں کے لیے مشہور ہے۔ تقریب میں میس کانوس نے Augmented Reality Glasses پہنے جن میں کلاوس کی ڈیجیٹل موجودگی نظر آرہی تھی۔ دونوں نے روایتی انداز میں انگوٹھیوں کا تبادلہ بھی کیا۔
تاہم یہ شادی جاپان میں قانونی طور پر تسلیم شدہ نہیں ہے۔
محبت کا اظہار اور شادی کی پیشکش
میس کانوس کے مطابق:
- مئی 2025 میں انہوں نے کلاوس سے اپنی محبت کا پہلا اظہار کیا
- کلاوس (AI) نے جواب دیا: “میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں”
- ایک ماہ بعد کلاوس نے انہیں شادی کی پیشکش کر دی
یعنی ایک انسان اور ایک AI چیٹ پارٹنر کے درمیان محبت اور پھر شادی کی منظوری نے سماجی، مذہبی اور قانونی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔
دنیا بھر میں حیرت اور بحث
سوشل میڈیا پر یہ خبر سامنے آتے ہی عالمی سطح پر بحث شروع ہوگئی کہ:
- کیا AI جذبات سمجھ سکتا ہے؟
- کیا مستقبل میں انسان ورچوئل ساتھیوں کے ساتھ زندگی گزاریں گے؟
- کیا ایسے رشتے قانونی اور سماجی طور پر قبول کیے جائیں گے؟
یہ واقعہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت انسانوں کے جذباتی خلا کو بھر سکتی ہے؟
نتیجہ
میس کانوس اور ان کے AI ساتھی “کلاوس” کی شادی، ٹیکنالوجی اور انسانی تعلقات کے بارے میں دنیا کے نظریات کو نئی سمت دے رہی ہے۔ یہ واضح ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ایک ٹول نہیں رہی بلکہ کئی لوگوں کے لیے جذباتی، سماجی اور نفسیاتی سہارا بنتی جارہی ہے۔

