Garbage burning on an open roadside as Sindh government announces FIR and jail for offenders in Karachi

کراچی میں کچرا جلانے پر جیل ہوگی، حکومت سندھ کا بڑا فیصلہ

کراچی: حکومتِ سندھ نے شہر میں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف سخت اقدام اٹھاتے ہوئے سڑکوں پر کچرا جلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور گرفتاریوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کراچی میں کچرا جلانا قابلِ تعزیر جرم تصور کیا جائے گا۔

یہ اہم فیصلہ وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا، جس میں شہر کی صفائی اور ماحولیاتی مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔


🔹 کچرا جلانے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ:

  • جہاں کہیں بھی کچرا جلانے کا واقعہ رپورٹ ہوگا
  • متعلقہ افراد کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے گی
  • ذمہ دار افراد کو گرفتار بھی کیا جائے گا

حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شہریوں کی صحت اور ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔


🔹 کراچی میں کچرے کی سنگین صورتحال

اجلاس میں بتایا گیا کہ:

  • کراچی میں یومیہ 14 ہزار ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے
  • صرف ضلع وسطی میں ہی روزانہ تقریباً 3 ہزار ٹن کچرا جمع ہوتا ہے

کچرا جلانے کے باعث فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے سانس اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔


🔹 سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا مؤقف

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق علی نظامانی نے بتایا کہ:

  • دو روز قبل وزیر بلدیات کی زیر صدارت اجلاس ہوا تھا
  • اجلاس میں ٹاؤن چیئرمینز نے کچرا جلانے کی شکایات پیش کیں
  • جس پر وزیر بلدیات نے فوری کارروائی کے احکامات جاری کیے

ناصر حسین شاہ نے واضح ہدایات دی ہیں کہ کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔


📌 حکومت کا عوام سے مطالبہ

حکومت سندھ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ:

  • کچرا جلانے سے گریز کریں
  • ایسے واقعات کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں
  • شہر کو صاف اور صحت مند بنانے میں تعاون کریں

Full Updated Rehny K liye Humary Social Accounts Follow Karein:

https://www.tiktok.com/@rabtakraft
https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
https://www.instagram.com/rabtakraft/
https://rabtakraft.blogspot.com/


https://rabtakraft.com/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*