Federal Shariat Court building in Pakistan with national flag on top.

27ویں آئینی ترمیم پر شرعی عدالت کا اعتراض – تفصیلی جائزہ



تعارف: 27ویں آئینی ترمیم اور اس کا پس منظر

  • 27 ویں آئینی ترمیم 2025 وہ قانونی ترمیم ہے جو حال ہی میں پارلیمان کے ہردونوں ایوانوں سے منظور ہوئی۔ اس ترمیم کے تحت عرضی مقدمات، آئینی کفایت اور عدالتی اختیار کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں متعارف کروائی گئیں۔ (Dawn)
  • سب سے بحث انگیز اور مرکزی تبدیلی یہ ہے کہ ایک نیا Federal Constitutional Court (FCC) تشکیل دیا جائے گا، جو آئینی اور عدالتی معاملات کی سماعت کا حتمی فورم ہوگا۔ اس سے موجودہ Supreme Court of Pakistan (سپریم کورٹ) اور ہائی کورٹس کی آئینی اختیارات اور عدالتی اختیار پر اثر پڑے گا۔ (Dawn)
  • ترمیم کے مدِنظر لائی جانے والی یہ تبدیلیاں حکومت کی جانب سے “عدالتی اصلاحات” بتائی گئی ہیں، لیکن عدلیہ، قانونی ماہرین، وکلا اور بعض مذہبی حلقوں نے اس کو پاکستان کے عدالتی ڈھانچے اور آئینی اصولوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ (The Express Tribune)

27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست اور شرعی عدالت کا ردعمل

  • وکیل Barrister Ali Tahir نے ترمیم کو اسلامی تعلیمات اور آئینی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست جمع کرائی، جس میں وفاقی شرعی عدالت کو فریق بنایا گیا ہے: وزارت قانون و انصاف اور وزارت پارلیمانی امور کو جوابدہ قراردیا گیا۔ (Dawn)
  • درخواست گزار کا موقف ہے کہ یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی اور احتساب کی اسلامی بنیادوں کو ختم کرتی ہے: صدر اور فیلڈ مارشل کو زندگی بھر کے لیے استثنیٰ دینا، یعنی “تاجب عدالت” بنانا، اسلامی قانون (شریعہ) کے اصولِ برابری، عدل و انصاف اور جوابدہی سے متصادم ہے۔ (Dawn)
  • تاہم، وفاقی شرعی عدالت (FSC) کے دفتر نے اعتراض اٹھایا ہے کہ آئینی ترمیم کے خلاف یہ درخواست ان کے دائرہِ سماعت (jurisdiction) میں نہیں آتی؛ یعنی FSC خود یہ قرار دے چکا ہے کہ ترمیم آئینی قانونی معاملہ ہے، اسلامی فقہی مسئلہ نہیں جسے شریعہ عدالت سن سکتی ہو۔ (جو آپ نے بیان کیا)

قانونی و آئینی بحث — اہم نکات اور اعتراضات

✅ وکلاء و ججوں کی تشویش

  • سینئر و بزرگ ججوں اور وکلاء نے یہ کہا ہے کہ 27ویں ترمیم آئینی عدالتوں کی آزادی اور عدلیاتی خودمختاری کو درہم برہم کر دینے والی ہے۔ انھوں نے Yahya Afridi (چیف جسٹس پاکستان) سے درخواست کی کہ وہ ایک “فل کورٹ” (تمام ججز پر مشتمل عدالت) بلائیں تاکہ اس ترمیم پر آئینی تشویشات کا جائزہ لیا جائے۔ (The Express Tribune)
  • ان کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی آئینی اور عدالتی اختیارات پارلیمانی فیصلوں کے ذریعے ختم یا محدود نہیں کیئے جا سکتے — یوں 27ویں ترمیم بنیادی آئینی ڈھانچے (basic structure) پر حملہ ہے۔ (Dawn)

⚠️ خطرات: عدل و انصاف، شفافیت اور عسکری/انتہائی طاقتوں کا امکان

  • ترمیم کے بعد، عدلیہ پر عملدارانہ (executive) اثر و رسوخ میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ججوں کے تقرر، تبادلہ، اور عدالتوں کی تنظیم پر اختیار حکومت یا فوج کے تحت آ سکتا ہے۔ (Geo News)
  • اس کے نتیجے میں عوامی اعتماد، عدالتی شفافیت، انصاف کی فراہمی، اور قانون کی حکمرانی (rule of law) کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ بعض مبصرین اور وکیل اسے آئینی اور جمہوری ڈھانچے کا “سب سے بڑا دھچکا” قرار دے رہے ہیں۔ (Wikipedia)

اسلامی نقطۂ نظر اور شریعہ عدالت کی حدود

  • درخواست گزار اور ان کے وکلا کا دعویٰ ہے کہ عدل، مساوات اور احتساب اسلامی شریعت کے بنیادی اصول ہیں — اور عدلیہ کا جوابدہ ہونا لازمی ہے۔ استثنیٰ دینا (lifetime immunity) اسلامی تہذیب اور قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ (Dawn)
  • لیکن FSC کے دفتر کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم سے متعلق معاملات شریعہ عدالت کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ یعنی ان کے نزدیک یہ معاملہ شریعت کی تشریح کا نہیں بلکہ آئینی اور قانونِ پاکستان کا ہے، جہاں شریعہ عدالت کا کردار محدود ہے۔ (جو آپ نے بھی نقل کی)

بڑا تضاد: آئینی عدالت بمقابلہ شریعہ عدالت

یہی وہ نکتہ ہے جس پر تنازعہ گر کر اُٹھا ہے: ایک طرف وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ترمیم اسلامی تعلیمات، عدلِ عام اور ذمہ داری کے خلاف ہے؛تو دوسری طرف عدالتی اور آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ عدالتِ نظر، قانون اور آئین ہے، اور یہ معاملہ بنیادی آئینی ڈھانچے (Basic Structure) کا ہے — شریعہ عدالت اس کی تشریح نہیں کر سکتی۔

اس تناظر میں، FSC کا کہنا کہ “یہ معاملہ ان کے دائرہ کار میں نہیں” ایک اہم قانونی اور آئینی دلیل ہے کہ شریعت عدالتیں ہمیشہ شریعت یا اسلام سے متعلق قوانین کی تشریح کے لیے بنائی گئیں تھیں، نہ کہ آئین کی عمارت میں تبدیلی کے لیے۔


ممکنہ نتائج اور آئندہ منظرنامہ

  • اگر FSC درخواست کو خارج یا رجسٹر ہی نہ کرے، تو ترمیم بلا مزاحمت قانون کا حصہ بن جائے گی، اور عدالتی نظام کی نئی تنظیم حتمی ہوجائے گی۔
  • اگر یہ درخواست قبول کی جائے یا عدالت اس پر سننے کا فیصلہ کرے تو ایک طویل آئینی اور قانونی بحث کا آغاز ہوگا — جو ممکنہ طور پر اسپریم کورٹ، ہائی کورٹس، عدلیہ اور وفاقی حکومت کے درمیان آئینی تنازع میں تبدیل ہو جائے۔
  • عوامی اور سیاسی ردّ عمل، عدالتوں اور سول معاشرے کے دباؤ کے نتیجے میں یا ترمیم کی شقوں میں ترمیم یا ردّ ممکن ہے — خاص طور پر اگر ترمیم کو عدالتی خودمختاری یا انصاف کی فراہمی کے لیے خطرہ تسلیم کیا جائے۔
  • اسلامی شریعت کے لحاظ سے بھی بحث جاری رہے گی: کیا آئین و قانون پر شریعت لاگو ہوتی ہے؟ اور اگر ترمیم بعض شقوں کو شریعت سے متصادم قرار دے دیا جائے تو کیا اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے؟

خلاصہ: کیا 27 ویں آئینی ترمیم، عدل اور شریعت کے درمیان نیا تنازع ہے؟

27 ویں آئینی ترمیم پاکستان کے عدالتی اور آئینی ڈھانچے میں ایک تاریخی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے — مگر اس تبدیلی کے خلاف قانونی اور شریعی اعتراضات نے اسے شدید بحث و مباحثے کا موضوع بنا دیا ہے۔
Federal Shariat Court نے ابتدائی طور پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اس ترمیم کے خلاف درخواست ان کے دائرہ کار میں نہیں آتی — لہٰذا شریعت کی بنیاد پر ترمیم کی تشریح یا کالعدم قرار دینا آسان نہیں ہوگا۔
دوسری طرف، عدلیہ کی خودمختاری، عوامی انصاف، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے لیے جو خدشات اٹھائے گئے ہیں، وہ جمہوری و آئینی مستقبل کے لیے بہت سنگین نظر آتے ہیں۔


Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

https://rabtakraft.com/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*