An open and broken manhole in the middle of a road, posing a serious danger to pedestrians, children, and vehicles.

7 سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق | انتظامیہ کی غفلت کے انکشافات

لودھراں (6 دسمبر 2025) — لودھراں میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں سات سالہ بچہ ریحان کھلے مین ہول میں گر کر جان کی بازی ہار گیا۔ یہ حادثہ نہ صرف انتظامیہ کی غفلت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ شہری علاقوں میں حفاظتی اقدامات کی کمزوری کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔


📍 واقعے کی تفصیلات

ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ کہروڑپکا روڈ، دھنوٹ کے علاقے ریاض آباد کالونی کے قریب پیش آیا۔
ریحان اپنے والد اللہ رکھا کے ساتھ ناشتہ لینے باہر نکلا تھا کہ اچانک راستے میں موجود بغیر ڈھکن کھلے مین ہول میں جا گرا۔

ریسکیو ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچے کو باہر نکالا اور اسپتال منتقل کیا، لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔

عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے بعد بھی ضلعی انتظامیہ دیر تک موقع پر نہ پہنچی، جس پر شہریوں نے شدید غصے اور مایوسی کا اظہار کیا۔


⚠ کراچی میں بھی اسی دن بڑا حادثہ ٹل گیا

اسی روز کراچی کے علاقے منگھوپیر، گرم چشمہ یونین کمیٹی نمبر 2 میں ایک 5 فٹ گہرے کھلے مین ہول نے دوسری جان لینے کا خطرہ پیدا کر دیا۔

پہلی جماعت کی طالبہ عنایہ امین اسکول سے گھر آ رہی تھی کہ اچانک مین ہول میں جا گری۔
خوش قسمتی سے ایک شہری نے فوری طور پر اسے نکال کر بچا لیا۔

پانی کا بہاؤ کم ہونے کی وجہ سے بڑا سانحہ رونما ہونے سے بال بال بچا۔


🔍 کھلے مین ہول — مستقل خطرہ یا انتظامی ناکامی؟

پاکستان کے مختلف شہروں میں کھلے مین ہولز کے باعث حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق:

  • مین ہول کور ٹوٹے یا غائب ہیں
  • متعلقہ محکمے بروقت مرمت نہیں کرتے
  • شکایات کے باوجود ردعمل نہیں ملتا
  • نگرانی کا نظام انتہائی کمزور ہے

یہ صورتحال شہریوں کی جانوں کو مسلسل خطرے میں ڈال رہی ہے۔


📌 ماہرین کا مؤقف

شہری انتظامیہ اور انفراسٹرکچر ماہرین کے مطابق:

✔ کھلے مین ہولز کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے
✔ مین ہول کور چوری روکنے کے لیے فائبر گلاس یا ہیوی ڈیوٹی کمپوزٹ کور استعمال کیے جا سکتے ہیں
✔ حادثات سے بچنے کے لیے باقاعدہ انسپکشن شیڈول ضروری ہے
✔ ایمرجنسی ریڈ الرٹ سسٹم اور شکایات کے فوری حل کے لیے جدید ٹیکنالوجی اپنانی چاہیے


📢 عوام کا مطالبہ

شہریوں نے حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے:

  • لودھراں، کراچی سمیت ملک بھر کے تمام کھلے مین ہول فوراً بند کیے جائیں
  • غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے
  • نکاسیٔ آب کے نظام کے لیے باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس سسٹم نافذ کیا جائے

🏁 نتیجہ

7 سالہ ریحان کی ہلاکت صرف ایک سانحہ نہیں، بلکہ ایک انتظامی ناکامی ہے۔
اگر بروقت مرمت، نگرانی اور حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں مزید جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔

شہریوں نے واضح پیغام دیا ہے:
کھلے مین ہولز کا مسئلہ فوری اور مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔


Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/


https://rabtakraft.com/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*