A distressed young woman raising her hands to protect herself from assault, symbolizing violence and abuse against women.

لاہور: کوٹ لکھپت میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ

لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ذہنی معذور 23 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق نامعلوم شخص لڑکی کو تشویشناک حالت میں میو اسپتال کے باہر چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ اسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد متعلقہ تھانے نے کارروائی شروع کر دی۔


مقدمہ درج، ملزمان کی تلاش جاری

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ دفعہ جات زیادتی اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت درج کیا گیا ہے اور واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے۔

پولیس کے مطابق میڈیکل رپورٹ کے بعد صورتحال مزید واضح ہوگی جبکہ لڑکی کا علاج اسپتال میں جاری ہے۔


واقعے کی تفصیلات (ابتدائی اطلاعات)

ابتدائی معلومات کے مطابق:

✔ متاثرہ لڑکی کی عمر 23 سال ہے
✔ لڑکی ذہنی معذوری میں مبتلا بتائی جا رہی ہے
✔ نامعلوم شخص اسے میو اسپتال کے گیٹ پر چھوڑ کر تیزی سے فرار ہوگیا
✔ پولیس نے قریبی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے
✔ اسپتال میں میڈیکل اور فرانزک معائنہ جاری ہے


اہلِ علاقہ اور سوشل میڈیا پر تشویش

واقعے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد شہریوں میں خوف و غم کی کیفیت ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس افسوسناک واقعے کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ ذہنی معذور لڑکی سے ظلم کرنے والے درندہ صفت ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔


پولیس اور انتظامیہ کا موقف

پولیس ترجمان کے مطابق:

“واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، اور ملزمان کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔”


مظلوم کے لیے انصاف کی اپیل

سماجی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذہنی و جسمانی معذور خواتین کی حفاظت کے لیے مزید مضبوط قوانین اور فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے، تاکہ ایسے واقعات دوبارہ جنم نہ لیں۔

Pakistan
https://rabtakraft.com

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*