Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu speaking at a podium during an official address, wearing a black suit, red tie, and a yellow ribbon pin.

دباؤ کے باوجود فلسطینی ریاست کی مخالفت جاری رہے گی: نیتن یاہو

پس منظر

غزہ پر جاری تنازع، فلسطینی علاقوں کی صورتحال اور عالمی دباؤ کی روشنی میں، اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu نے اپنے کابینہ اجلاس میں کہا ہے کہ “ہماری مخالفت کسی بھی علاقے میں فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے ایک حرف کی بھی تبدیل نہیں ہوئی ہے۔” (France 24)
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ‎United Nations Security Council میں امریکہ کی زیرِ سرپرستی قرارداد پر ووٹنگ متوقع ہے جس میں غزہ کے بعد فلسطینی علاقے کے انتظام، عبوری انتظامیہ اور ممکنہ ریاست کے قیام کے حوالے سے بحث کی جائے گی۔ (Al Jazeera)

Netanyahu کا موقف

Netanyahu نے واضح کیا کہ:

  • اسرائیل کسی بھی ایسے منصوبے کو قبول نہیں کرے گا جو “غربِ اردن” یعنی ‎West Bank اور غزہ میں فلسطینی ریاست کی بنیاد بنے۔ (Newsweek)
  • غزہ میں ‎Hamas کو غیر مسلح کرنے کے بعد ہی مستقبل کا انتظام ممکن ہو سکتا ہے، “آسان ہو یا مشکل راستہ” دونوں اختیار کیے جائیں گے۔ (Newsweek)
  • اس نے کہا کہ اسرائیل کی حیثیت، سلامتی اور سرزمین پر خود مختاری کسی بھی صورت “قابلِ سود” نہیں ہوگی۔ (The Jerusalem Post)

بین الاقوامی اور داخلی دباؤ

  • متعدد مغربی ممالک نے فلسطینی ریاست کے حق میں موقف اختیار کیا ہے، لیکن اسرائیل نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ (France 24)
  • اسرائیلی عوامی سروے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ اکثریت ‎West Bank میں فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف ہے—یہ بھی Netanyahu کی پالیسی کو تقویت دے رہا ہے۔ (New York Post)
  • امریکہ اور دیگر ممالک نے غزہ کے بعد کی حکمتِ عملی میں اسرائیل کو مختلف شرائط کے تحت ریاستی حل کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی، مگر Netanyahu نے سختی سے تمام “قاعدے” عائد کیے ہیں۔ (Le Monde.fr)

غزہ اور مستقبل کی حکمتِ عملی

غزہ میں جاری تصادم اور عبوری انتظامیہ کی منصوبہ بندی کے دوران، اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ پر مکمل کنٹرول برقرار رکھے گا اور کسی ایسی حالت کو تسلیم نہیں کرے گا جو ایک مکمل فلسطینی ریاست کا دروازہ کھولے۔ (Newsweek)
Netanyahu نے مزید کہا کہ فلسطینی علاقوں میں “خود مختاری” ہو سکتی ہے، مگر ریاستی حیثیت نہیں، جب تک اسرائیل کی سیکیورٹی، حدود اور سیاسی مفادات محفوظ نہیں ہوں گے۔

اثرات اور مستقبل کی سمت

  • اس موقف کی روشنی میں اقوام متحدہ میں دو ریاستی حل (two-state solution) کے خیال کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ (Wikipedia)
  • خطے میں عرب ممالک اور مغربی طاقتوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات پر اس فیصلے سے اثر پڑ سکتا ہے، خصوصاً ان ممالک کے جنہوں نے فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
  • فلسطینی قیادت اور عوامی سطح پر مایوسی اور مزید کشیدگی کا امکان ہے، کیونکہ مستقبل کے حل کی امید کم ہو رہی ہے۔
  • اسرائیلی حکومت کے اندر بھی سخت دائیں بازو کے وزرا اور حزبِ اختلاف دونوں Netanyahu کے موقف کے ساتھ مختلف امریکی یا مغربی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ (Reuters)

Benjamin Netanyahu کا فلسطینی ریاست کے خلاف موقف نہ صرف بیان کی حد تک ہے بلکہ اس نے اسرائیل کی آئندہ پالیسی کو بھی واضح کر دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ “دو ریاستی حل” کے خیال کو عملی شکل دینے کی راہ مزید پیچیدہ ہو گئی ہے اور خطے کا سیاسی منظرنامہ عنقریب تبدیل ہونے والا ہے۔


Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

https://rabtakraft.com/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*