Sindh Minister Sharjeel Inam Memon addressing a press conference, speaking into microphones with the Sindh government emblem visible on the green backdrop behind him.

سندھ کی تقسیم ناممکن ہے، سندھ کوئی کیک نہیں کہ اس کو بانٹ دیا جائے: شرجیل میمن


سندھ کی سیاست میں تقسیم کا موضوع عرصے سے زیرِ بحث رہا ہے، مگر صوبائی حکومت کے مطابق اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ صوبہ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ “سندھ کی تقسیم ناممکن ہے، سندھ کوئی کیک نہیں ہے کہ اسے بانٹ دیا جائے”۔ (Dunya News)

پریس کانفرنس اور بیان کا سیاق و سباق

شرجیل میمن نے بیان دیا کہ صوبہ توڑنے کی باتیں صرف “فضول” ہیں۔ انھوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ایجنڈے میں بلدیاتی اداروں کا ذکر موجود نہیں تھا، اس لیے صوبائی سطح پر “نیا صوبہ” بنانے کی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ (abbtakk.tv)

وِہاں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ٹویٹ کا حوالہ بھی دیا، اور کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ-پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال “ملک کو توڑنے والی باتیں کریں گے” اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت “جذباتی ردِعمل” دے، تاکہ ان کی سیاست فعال رہے۔ (Facebook)

سیاسی پسِ منظر

تقسیم کا مسئلہ سندھ کے اندر کئی دہائیوں سے موجود ہے، خاص طور پر کراچی کے شہری علاقوں اور اندرونی سندھ کے درمیان وسائل کی تقسیم، سیاسی اثر و رسوخ، زبان اور انتظامی شناخت کے معاملات کی بنیاد پر۔ شرجیل میمن کے مطابق یہ “سندھ بانٹنے” کی باتیں وفاقی یا صوبائی سطح پر آزمانے کی کوشش ہیں جنہیں وہ قطعی رد کرتے ہیں۔ (Pakistan Point)

اتحاد و اپوزیشن کا رد عمل

شرجیل میمن نے متحدہ قومی موومنٹ-پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا، کہا کہ اُن کی سیاست “مردہ سیاست میں جان ڈالنا” ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومتی ردعمل شدید ہو تاکہ جذباتی سطح پر عوام کو جھکایا جائے۔ (Geo News)

آئینی و قانونی پہلو

انہوں نے واضح کیا کہ سندھ اسمبلی نئے صوبے کی منظوری کبھی نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ “کوئی مقدس گائے نہیں ہے، پیپلزپارٹی نے کوئی شق چھپ کر تسلیم نہیں کی”۔ (ARY News)


سندھ کی تقسیم کا معاملہ صرف ایک سیاسی موضوع نہیں بلکہ صوبے کی انتظامی، معاشی اور سماجی شناخت کا راز ہے۔ شرجیل میمن کے بیان نے اس بات کو اجاگر کیا کہ صوبائی حکومت اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔ تقسیم کی باتیں آئینی، قانونی اور عوامی سطح پر کسی بھی طرح قبول نہیں ہوں گی، بشرط یہ کہ متعلقہ وفاقی و صوبائی ادارے اور سیاست دان اس سمت نہ جائیں۔

Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

https://rabtakraft.com/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*