A close-up shot of a person holding a handful of unshelled pine nuts (chilghoza) in both hands at a local market stall.

چلغوزہ صرف 3 ہزار روپے کلو — سردیوں میں حیران کن خوشخبری — RabtaKraft

سردی آتے ہی خشک میوہ جات کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، مگر اس بار ایک غیر معمولی اور خوش کن خبر نے سب کو چونکا دیا ہے۔ وہ خشک میوہ جو کئی سالوں سے انتہائی مہنگا سمجھا جاتا تھا، صرف 3 ہزار روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے، اور وہ بھی بالکل اصلی چلغوزہ!

چلغوزہ ہمیشہ مہنگا کیوں رہا؟

قدرت نے انسان کیلئے انمول نعمتیں اتاری ہیں جن میں خشک میوہ جات بھی شامل ہیں۔ اگرچہ یہ سارا سال استعمال ہوتے ہیں مگر سردیوں میں ان کی مانگ بڑھ جاتی ہے، اسی وجہ سے ان کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔

مونگ پھلی، خشک خوبانی، چھوہارے، انجیر اور کشمش مقبول ہیں، مگر چلغوزہ ہمیشہ سب سے مہنگا رہا ہے۔ کئی سالوں سے یہ نہ تو ٹھیلوں پر دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی عام دکانوں پر، کیونکہ اس کی قیمت عام شہری کی پہنچ سے باہر ہو چکی تھی۔

گزشتہ چند برسوں میں چلغوزہ 12 سے 16 ہزار روپے فی کلو تک فروخت ہوتا رہا۔

اب صرف 3000 روپے کلو – وہ بھی اصلی چلغوزہ!

اس بار خوشخبری یہ ہے کہ چلغوزہ انتہائی سستی قیمت پر مل رہا ہے۔
جی ہاں، صرف تین ہزار روپے کلو!

لیکن یہ قیمت پورے ملک میں نہیں، بلکہ جنوبی وزیرستان، لوئر وانا بازار میں دستیاب ہے۔

سستی قیمت کی وجہ کیا ہے؟

مقامی دکانداروں کے مطابق:

  • گزشتہ سال یہی چلغوزہ 8 سے 10 ہزار روپے کلو بکا
  • اس بار پیداوار زیادہ ہونے کی وجہ سے قیمت میں نمایاں کمی آئی
  • مارکیٹ بھر گئی، جس سے ریٹ تیزی سے نیچے آگئے

یہ خبر سن کر عوام خوش اور حیران دونوں ہیں، کیونکہ چلغوزہ پہلی بار اتنی کم قیمت پر دستیاب ہوا ہے۔

سردیوں میں خشک میوہ جات کی طلب میں اضافہ

خشک میوہ جات انسان کو توانائی دیتے ہیں، جسم کو گرم رکھتے ہیں اور بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ ایسے میں چلغوزہ کا 300 روپے کلو تک آ جانا متوسط طبقے کیلئے ایک بڑی خوشخبری ہے۔


Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

https://rabtakraft.com/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*