آسام میں بھارتی حکومت اور فوج کے خلاف بڑے پیمانے پر نوجوانوں کے احتجاج میں شدت
بھارتی ریاست آسام اس وقت شدید عوامی بے چینی اور بغاوت جیسے ماحول سے گزر رہی ہے، جہاں نوجوان نسل نے بھارتی حکومت اور فوج کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کر دیا ہے۔ مقامی و قبائلی برادریوں کے مطابق یہ غصہ اچانک نہیں پھوٹا بلکہ برسوں سے جاری حکومتی دباؤ، جبری کارروائیوں، ریاستی تشدد اور وسائل پر قبضے کے خلاف ردِ عمل ہے۔
پس منظر: ناراضگی کیوں بڑھ رہی ہے؟
آسام کی مقامی قومیت، ثقافت اور زمینوں پر بڑھتے ہوئے کنٹرول کے باعث عوام میں یہ تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ بھارتی حکومت آسام کی پہچان کو منظم طریقے سے ختم کررہی ہے۔
خاص طور پر قبائلی برادریوں اور نوجوانوں کا دعویٰ ہے کہ:
- زمینوں پر زبردستی قبضے کیے جا رہے ہیں
- مقامی زبان و ثقافت کو کمزور کیا جا رہا ہے
- فوجی نگرانی اور کارروائیاں بڑھ رہی ہیں
- ورک فورس اور تعلیمی مواقع مقامی آبادی سے چھینے جا رہے ہیں
یہ تمام عوامل آسام میں کئی دہائیوں سے موجود تضادات کو مزید شدت دے رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کی خاموشی—احتجاج مزید بھڑکا
بھارت کا مین اسٹریم میڈیا اس اہم معاملے پر مکمل خاموش ہے۔
نہ خبریں، نہ رپورٹس، نہ تجزیے—کچھ بھی نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق میڈیا کی یہی خاموشی نوجوانوں میں مزید غصہ پیدا کر رہی ہے کیونکہ ان کے مطابق:
- میڈیا حکومت کے دباؤ میں ہے
- آسام کی آواز کو دبایا جا رہا ہے
- مظاہرین کی ویڈیوز صرف سوشل میڈیا پر دکھائی دے رہی ہیں
یہ صورتحال عوام کو یہ احساس دلا رہی ہے کہ ریاست ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
علیحدگی کے مطالبات ابھرنے لگے
آسام کے کئی علاقوں میں نوجوانوں نے اب علیحدگی کے مطالبات بھی بلند کرنا شروع کر دیے ہیں۔
یہ مطالبات آسام میں ایک بڑے سیاسی اور سماجی بحران کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
مقامی رہنماؤں کے مطابق اگر بھارتی حکومت نے:
- طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کا راستہ نہ اپنایا
- مقامی نوجوانوں کے خدشات نہ سنے
- آسام کی شناخت کے تحفظ کے اقدامات نہ کیے
تو آنے والے دنوں میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
صورتحال کشیدہ—سیکیورٹی میں اضافہ
مختلف اضلاع میں:
- اضافی نفری تعینات
- انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی
- سوشل میڈیا مانیٹرنگ
- جلسوں اور جلوسوں پر کڑی نظر
جیسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
تاہم احتجاج کرنے والے نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آواز دنیا تک پہنچا رہے ہیں اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
آسام اس وقت بھارت کے لیے ایک ممکنہ بڑے سیاسی بحران کی شروعات کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو:
- علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑ سکتی ہیں
- ریاستی تشدد بڑھ سکتا ہے
- اور بھارت کو اندرونی انتشار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
صورتحال سنگین ہے اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

