بھارت کو پاکستان بننے سے بچانے کے لیے ہندو 3 سے 4 بچے پیدا کریں، نونیت رانا کا متنازع بیان
نئی دہلی / ویب ڈیسک:
بھارت میں ایک بار پھر سیاست ایک متنازع اور حساس بیان کی وجہ سے شدید بحث کی زد میں آ گئی ہے۔ مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والی نونیت رانا نے ایک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت کو “پاکستان بننے سے بچانا ہے” تو ہندوؤں کو تین سے چار بچے پیدا کرنے چاہییں۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی، سماجی اور سوشل میڈیا حلقوں میں سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
نونیت رانا نے کیا کہا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق نونیت رانا نے 23 دسمبر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ایک مخصوص طبقہ (مسلمانوں کی طرف اشارہ) زیادہ بچے پیدا کر کے ملک کی آبادیاتی ساخت تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک “سوچی سمجھی سازش” ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہندو سماج کو بھی زیادہ بچے پیدا کرنے چاہییں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک مولانا نے خود یہ کہا ہے کہ اس کی چار بیویاں اور 19 بچے ہیں۔ نونیت رانا کے مطابق اگر کوئی شخص 19 بچے پیدا کر سکتا ہے تو ہندوؤں کو کم از کم تین یا چار بچے پیدا کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندو ایک بچے پر کیوں اکتفا کر رہے ہیں، جبکہ دوسرے لوگ کھلے عام زیادہ بچوں کی بات کرتے ہیں۔
سیاسی اور سماجی ردعمل
نونیت رانا کے اس بیان کو کئی حلقوں میں نفرت انگیز، اشتعال انگیز اور تقسیم پیدا کرنے والا قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات بھارت جیسے کثیر مذہبی اور متنوع معاشرے میں سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی اس بیان کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں صارفین کا کہنا ہے کہ سیاسی فائدے کے لیے مذہب اور آبادی جیسے حساس معاملات کو استعمال کرنا خطرناک رجحان ہے۔
راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے کے ممکنہ اتحاد پر تبصرہ
اسی گفتگو کے دوران نونیت رانا نے راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے کے ممکنہ سیاسی اتحاد سے متعلق خبروں پر بھی تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادھو ٹھاکرے اب بے بسی کی علامت بن چکے ہیں اور آنے والے بلدیاتی انتخابات میں ان کی جماعت کی کارکردگی مزید خراب ہو سکتی ہے۔ نونیت رانا کے مطابق اگر کوئی سیاسی رہنما ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جاتا ہے تو اس کا سیاسی مستقبل بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
انتخابات سے قبل سیاسی ماحول مزید گرم
نونیت رانا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں آئندہ انتخابات سے قبل سیاسی ماحول پہلے ہی کشیدہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف سیاسی پولرائزیشن کو بڑھاتے ہیں بلکہ سماجی یکجہتی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
بھارت میں آبادی، مذہب اور قومی شناخت جیسے موضوعات ہمیشہ سے حساس رہے ہیں۔ نونیت رانا کا حالیہ بیان ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سیاسی بیانات کس طرح عوامی جذبات کو بھڑکا سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ سیاسی جماعتیں اور ادارے اس طرح کے متنازع بیانات سے کیسے نمٹتے ہیں۔
Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

