پندرہ سال سے کم بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا امکان | 2026 تک قانون متوقع
عالمی سطح پر کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے خطرات پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے، اور اب یورپ کے ایک اہم ملک ڈنمارک نے بھی اس حوالے سے بڑا قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ ڈنمارک کی حکومت 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کا قانون تیار کر رہی ہے جس کے تحت بچوں کا سوشل میڈیا استعمال سخت کنٹرول میں لیا جائے گا۔ (Breitbart)
ڈنمارک کا نیا سوشل میڈیا قانون کیا ہے؟
حکومت نے پارلیمنٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت کے ساتھ ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کے مطابق:
- 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی کی اجازت نہیں ہوگی۔
- 13 سال یا زیادہ عمر والے بچوں کو والدین کی منظوری کے ساتھ سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
- یہ قانون ممکنہ طور پر 2026 کے وسط تک نافذ کیا جائے گا۔ (Breitbart)
یہ اقدام آسٹریلیا کے مشابہ قانون کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی پہلے ہی نافذ ہو چکی ہے۔ (ABC News)
والدین کے لیے اجازت اور عمر کی تصدیق
مجوزہ قانون والدین کو یہ حق بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے 13 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت دے سکیں، بشرطِ یہ کہ ان کے والدین مناسب نگرانی فراہم کریں۔ (DW News)
عمر کی تصدیق کے لیے حکومت ایک ڈیجیٹل عمر تصدیق ایپ (Age Verification App) متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کی مدد سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی عمر کا تعین یقینی بنایا جائے گا اور پابندی پر عمل ممکن ہوگا۔ (Breitbart)
ڈیجیٹل دنیا میں پابندی کیوں ضروری سمجھی جا رہی ہے؟
ڈنمارک کی وزیر برائے ڈیجیٹل امور کیرولین اسٹیج کے مطابق:
“حقیقی دنیا میں بچوں کے لیے عمر کی بنیاد پر قوانین موجود ہیں، اسی طرح ڈیجیٹل دنیا میں بھی باڈی گارڈ یا نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ بچے نقصان دہ مواد، اشتہارات یا غیر مناسب آن لائن عوامل سے محفوظ رہ سکیں۔” (Breitbart)
ماہرین اور والدین کا استدلال ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر محتاط استعمال بچوں کی ذہنی صحت، توجہ، یادداشت اور معاشرتی تعلقات پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ ایسی تشویشات متعدد بین الاقوامی مطالعات میں بھی سامنے آئی ہیں جو بتاتی ہیں کہ سوشل میڈیا کا بے تحاشا استعمال بچوں کی دماغی اور جذباتی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ (Dawn News)
نئی پابندی کے ممکنہ چیلنجز
اگرچہ قانون کا مقصد بچوں کا تحفظ ہے، لیکن کچھ ماہرین اور نوجوانوں نے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں:
- سوشل رابطے میں کمی: بعض نوجوانوں کا کہنا ہے کہ پابندی سے ان کے آن لائن دوستوں اور گروپس سے تعلق متاثر ہو سکتا ہے۔ (AP News)
- حقوق اور آزادی: کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ بالخصوص 13 سے 15 سال کے بچوں کے حقوق کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ سوشل میڈیا کو سماجی رابطوں اور اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ (Breitbart)
دیگر ملکوں کی صورتحال
یہ اقدام عالمی سطح پر بچوں کی ڈیجیٹل سلامتی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کوششوں کا حصہ ہے۔ مثال کے طور پر:
- آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی نافذ کی ہے۔ (Reuters)
- فرانس، جرمنی، ناروے اور دیگر ممالک بھی عمر کی حد، والدین کی اجازت، یا نگرانی کے قوانین پر غور کر رہے ہیں۔ (The Guardian)
یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں بچوں کی ڈیجیٹل زندگی اور آن لائن تحفظ کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔
ڈنمارک کا یہ اقدام اس جانب ایک مضبوط قدم ہے جہاں حکومتیں ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کی حفاظت اور عمر کی حدود کے حوالے سے واضح اصول مرتب کر رہی ہیں۔ اگر یہ قانون 2026 تک نافذ ہوتا ہے، تو یہ نہ صرف یورپ میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا بلکہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا اور بچوں کی عمر کی پابندیوں کے حوالے سے ایک مثال بھی قائم کرے گا۔ (Breitbart)
Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

