A convoy of armored military vehicles and tanks moving along a highway, with several soldiers in uniform positioned on top and inside the vehicles.

اسرائیلی فوج کا مغربی کنارے میں نیا آپریشن شروع — کشیدگی میں مزید اضافہ

مقبوضہ مغربی کنارے میں صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے، کیونکہ اسرائیلی فوج نے علاقے کے شمالی حصے سیماریا (Samaria) میں ایک نیا اور وسیع پیمانے پر انسداد دہشت گردی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تازہ کارروائیوں نے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

نیا آپریشن، پرانے زخم ہرے

اسرائیلی فوج کے مطابق یہ آپریشن جنوری 2025 میں شروع کیے گئے پرانے آپریشن کا حصہ نہیں ہے۔ اس سے قبل ہونے والی کارروائیاں بنیادی طور پر فلسطینی پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنا رہی تھیں، جن میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور چھاپوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ:

“موجودہ آپریشن نیا ہے اور اس کا مقصد خطے میں دہشت گرد عناصر کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے۔”

تاہم فلسطینی حلقے اسے اسرائیلی جارحیت میں توسیع قرار دے رہے ہیں۔


اکتوبر 2023 کی جنگ کے بعد تشدد میں اضافہ

مغربی کنارے میں پچھلے دو سال کے دوران تشدد میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خصوصاً اکتوبر 2023 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے۔

  • اسرائیلی فوج کے چھاپے
  • آبادکاروں کے حملے
  • گھروں کی مسماری
  • سرچ آپریشنز

سب نے مل کر خطے کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔

غزہ جنگ بندی بھی مغربی کنارے کو نہ بچا سکی

اگرچہ 10 اکتوبر 2025 کو غزہ میں جنگ بندی کے بعد حالات جزوی طور پر بہتر ہونے کی امید تھی، لیکن مغربی کنارے میں صورتحال میں کسی قابلِ ذکر بہتری کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔


فلسطینی شہادتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے

فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق:

  • اکتوبر 2023 سے اب تک 1000 سے زائد فلسطینی
    اسرائیلی فوج یا آبادکاروں کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔
  • ان میں بڑی تعداد نوجوانوں، بچوں اور عام شہریوں کی ہے۔

تشدد کی اس لہر نے پورے مغربی کنارے کو خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔


قیدیوں کی لاشیں واپس — غزہ وزارت صحت کا بیان

اسرائیلی اقدامات کا ایک سنگین پہلو فلسطینی قیدیوں کی لاشوں کی واپسی ہے۔

غزہ وزارتِ صحت کے مطابق:

  • اسرائیل نے 15 فلسطینی قیدیوں کی لاشیں واپس کر دی ہیں۔
  • یہ لاشیں ریڈکراس کے ذریعے غزہ پہنچائی گئیں۔
  • اس طرح اسرائیل کی جانب سے واپس کی جانے والی شہید فلسطینی قیدیوں کی کل تعداد 345 ہو گئی ہے۔

فلسطینی انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق یہ قیدی دورانِ حراست تشدد یا کارروائیوں میں شہید ہوئے۔


بین الاقوامی ردِعمل — خاموشی یا بے بسی؟

مغربی کنارے میں جاری صورتحال پر عالمی قوتوں کی جانب سے ردعمل خاصا کمزور ہے۔

  • اقوام متحدہ نے بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے
  • انسانی حقوق کی تنظیموں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے
  • لیکن اسرائیلی کارروائیاں بدستور جاری ہیں

ماہرین کے مطابق عالمی طاقتوں کی خاموشی یا محدود ردِعمل نے اسرائیل کو مزید جارحانہ پالیسی اپنانے کا حوصلہ دیا ہے۔


نتیجہ — ایک نیا آپریشن، نئی تباہی کی پیش گوئی؟

اسرائیلی فوج کے تازہ آپریشن نے واضح کر دیا ہے کہ مغربی کنارے میں تناؤ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھے گا۔
نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع جاری رہے گا بلکہ سیاسی طور پر بھی صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔

فلسطینی عوام پہلے ہی کئی دہائیوں سے:

  • بنیادی حقوق
  • آزادی
  • سلامتی
  • اور باوقار زندگی

کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اور اب نیا آپریشن ان مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔


Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

https://rabtakraft.com/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*