کراچی میں مرغی کا گوشت 700 روپے کلو | مہنگائی کی وجوہات اور سرکاری و مارکیٹ ریٹس
کراچی کے مارکیٹوں میں ایک بار پھر مرغی کے گوشت کی قیمتوں نے ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ قیمتیں “آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں”، جبکہ تاجر اور پولٹری ایسوسی ایشن اس کا ذمہ دار “طلب و رسد کے فرق” کو ٹھہرا رہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ سرکاری نرخوں اور مارکیٹ ریٹس میں بہت بڑا فرق پیدا ہو گیا ہے، جس سے گھریلو صارفین کا بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
موجودہ قیمتوں کا اعدادوشمار: سرکاری بمقابلہ مارکیٹ
| آئٹم | سرکاری قیمت (فی کلو) | مارکیٹ قیمت (فی کلو) | فرق |
|---|---|---|---|
| زندہ مرغی | 416 روپے | 470 روپے تک | +54 روپے |
| مرغی کا گوشت | 630 روپے | 700 روپے تک | +70 روپے |
یہ واضح فرق بتا رہا ہے کہ صارفین کو سرکاری ریٹس پر مرغی دستیاب نہیں ہو رہی، اور وہ مارکیٹ کی من مانی قیمتوں کا شکار ہیں۔
ایسوسی ایشن کا موقف: “طلب زیادہ، رسد کم”
پولٹری ایسوسی ایشن کے رہنما ملک ظریف کے مطابق موجودہ مہنگائی کی بنیادی وجہ رسد کے مقابلے میں طلب میں اضافہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
- گرمی کے موسم میں مرغیوں کی افزائش اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
- فیڈ (خوراک) کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا اثر مقامی منڈی پر پڑا ہے۔
- ٹرانسپورٹ اور توانائی کے اخراجات میں ہونے والا اضافہ بھی قیمت پر ڈالا جا رہا ہے۔
تاہم، صارفین کا مؤقف ہے کہ یہ محض بہانے ہیں، اور تاجر قلت پیدا کر کے مصنوعی مہنگائی کا رخ کر رہے ہیں۔
عوام پر کیا گزر رہی ہے؟
ایک عام گھرانے کے لیے مرغی اہم پروٹین کا ذریعہ ہے۔ قیمت میں 70 روپے فی کلو کا اضافہ ایک مہینے کے گوشت کے اخراجات میں سینکڑوں روپے کا اضافہ کر دیتا ہے۔ بہت سے لوگ اب مرغی خریدنے کے بجائے مچھلی یا دالوں کا رخ کر رہے ہیں، جس سے ان کے غذائی معیار پر بھا اثر پڑ رہا ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
معاشی ماہرین کے مطابق یہ صرف پولٹری سیکٹر کا مسئلہ نہیں، بلکہ غذائی اشیاء کی مہنگائی میں عمومی رجحان کی ایک کڑی ہے۔ انفلیشن، کرنسی کی قدر میں کمی، اور سپلائی چین کے مسائل مل کر عوام کی قوت خرید کو کم کر رہے ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ:
- نگرانی کے میکانزم مضبوط کیے جائیں تاکہ سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
- اسٹاک کا جائزہ لیا جائے کہ کہیں ذخیرہ اندوزی تو نہیں ہو رہی۔
- متبادل ذرائع (جیسے مقامی سطح پر پولٹری فارمنگ کو فروغ) پر توجہ دی جائے۔
مستقبل کا رجحان: قیمتیں کم ہوں گی یا اور بڑھیں گی؟
موسم گرما کے اختتام اور طلب میں معمولی کمی کے ساتھ قیمتوں میں کچھ استحکام آنے کی امید ہے۔ تاہم، اگر حکومت کی جانب سے موثر اقدامات نہ اٹھائے گئے اور عالمی فیڈ کے ریٹس اسی طرح بلند رہے، تو صورتحال بہتر ہونے کے بجائے خراب ہو سکتی ہے۔ عوام کی دعا ہے کہ عید قربان سے پہلے قیمتیں معقول سطح پر آ جائیں، ورنہ گوشت خریدنابھی ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
- سرکاری نرخوں کا علم رکھیں اور اس سے زیادہ قیمت دینے سے انکار کریں۔
- جہاں تک ممکن ہو، مستند اور رجسٹرڈ دکانوں سے ہی خریداری کریں۔
- اگر آپ کو ذخیرہ اندوزی یا بے تحاشہ مہنگائی کا شبہ ہو، تو متعلقہ محکمے (ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی) کو اطلاع دیں۔
نتیجہ: کراچی میں مرغی کی مہنگائی محض ایک عدد کا مسئلہ نہیں، بلکہ غریب اور متوسط طبقے کی غذائی سلامتی سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اسے کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری اور احتساب کا عمل بھی ضروری ہے۔
Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

