کراچی میں کھلا گٹر ایک اور بچی کو نگلنے لگا، راہ گیر نے سانحہ ٹال دیا
کراچی میں کھلے مین ہولز ایک بار پھر شہریوں خصوصاً بچوں کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ منگھوپیر کے علاقے گرم چشمہ کے قریب پیش آنے والا تازہ واقعہ اس سنگین مسئلے کی طرف دوبارہ توجہ مبذول کرواتا ہے۔ ایک نجی اسکول کی پہلی جماعت کی طالبہ عنایہ امین کھلے گٹر میں جاگری، مگر خوش قسمتی سے عین موقع پر گزرنے والے راہ گیر نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے بچی کو محفوظ باہر نکال لیا۔
واقعے کی تفصیل
عینی شاہدین کے مطابق بچی اسکول سے چھٹی کے بعد گھر جارہی تھی کہ اچانک بغیر ڈھکن کے مین ہول میں گر گئی۔ چیخ کی آواز سنتے ہی نزدیکی راہ گیر نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گٹر کے اندر اتر کر بچی کو باہر نکالا۔ موجود افراد کے مطابق اگر بروقت کارروائی نہ ہوتی تو صورتحال سنگین ہوسکتی تھی۔
اہلِ علاقہ کی تشویش
گرم چشمہ اور اطراف کے مکینوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھلے مین ہولز آئے روز حادثات کا سبب بن رہے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے اس پر فوری اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے مطابق:
- گلیوں اور سڑکوں پر کئی مقامات پر مین ہولز کے ڈھکن غائب ہیں
- اسکولوں کے اطراف یہ صورتحال بچوں کے لیے خطرے سے کم نہیں
- بارہا شکایات کے باوجود متعلقہ ادارے حرکت میں نہیں آتے
چند روز پہلے ہونے والا سانحہ—ابراہیم کا کیس
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل کراچی کی ہی گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب 3 سالہ ابراہیم کھلے گٹر میں گر کر جان کی بازی ہار گیا تھا۔
اہلِ خانہ اور اہلِ محلہ نے اپنی مدد آپ کے تحت 14 گھنٹے تلاش جاری رکھی، مگر افسوسناک طور پر بچے کی لاش جائے حادثہ سے ایک کلومیٹر دور نالے سے ملی۔
اس واقعے نے پورے شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ بچے کی والدہ کی دہائی کرتی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس نے انتظامیہ کو حرکت میں لایا۔
انتظامیہ کا ردِعمل
سانحہ ابراہیم کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اہلِ خانہ سے معافی مانگی اور واقعے کی ذمہ داری قبول کی۔
کے ایم سی کی تحقیقاتی رپورٹ سیکرٹری بلدیات کو ارسال کی گئی جس میں بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیرات کو حادثے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔
تاہم تازہ ترین واقعہ واضح کرتا ہے کہ صورتحال بدستور تشویش ناک ہے اور ضروری اقدامات تاحال ناکافی ہیں۔
کھلے مین ہولز… شہریوں کی جان کب تک خطرے میں؟
کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں بار بار ہونے والے یہ حادثات انتظامی غفلت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے:
- گٹر ڈھکنوں کی فوری بحالی
- علاقے میں مانیٹرنگ سسٹم
- تعمیراتی کمپنیوں کی سخت نگرانی
- شکایت کے نظام کو فعال بنانا
- اسکولوں کے اطراف باقاعدہ انسپکشن
لازمی ہیں، ورنہ یہ سلسلہ مزید جانیں لے سکتا ہے۔
راہ گیر کی بہادری—ایک روشن مثال
عنایہ امین کو بچانے والے شہری نے ثابت کیا کہ بروقت قدم کسی بڑی جان لیوا صورتحال کو ٹال سکتا ہے۔ کراچی جیسے شہر میں ایسے بہادر افراد حقیقی ہیروز ہیں۔
Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

