امریکی کانگریس کی رپورٹ — پاک بھارت مئی 2025 کی جنگ میں پاکستان کی فوجی برتری کا اعتراف
واشنگٹن: امریکی کانگریس کی ایک اہم اور تفصیلی رپورٹ میں مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان نے اس مختصر مگر فیصلہ کن جھڑپ میں واضح فوجی برتری حاصل کی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ چین نے اس جنگ کے دوران نہ صرف پاکستان کی بھرپور معاونت کی بلکہ اپنے جدید دفاعی نظام کو عملی میدان میں پہلا بڑا امتحان بھی دیا۔
امریکا۔چین اکنامک اینڈ سیکیورٹی ریویو کمیشن کی رپورٹ پیش
امریکی کانگریس میں پیش کی گئی امریکا۔چین اکنامک اینڈ سیکیورٹی ریویو کمیشن کی اس رپورٹ میں سات مئی 2025 کی جھڑپ سمیت مکمل صورتحال کا فوجی، سفارتی اور جغرافیائی تجزیہ شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاک بھارت کشیدگی ایک ایسے مرحلے پر داخل ہوئی جہاں چند گھنٹے اور روز خطے میں بڑے بحران کو جنم دے سکتے تھے۔
کمیشن نے رپورٹ میں خطے کی حساس صورتحال، دونوں ممالک کی حکمتِ عملی اور جنگ کے دوران استعمال ہونے والے اسلحے اور ٹیکنالوجی پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
پاکستان نے 7 مئی کی جنگ میں بھارت کو شکست دی
رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کی مختصر جنگ میں پاکستان نے بھارت پر فیصلہ کن برتری حاصل کی۔ امریکی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں پاکستان کی کارکردگی متاثرکن رہی، جس میں چین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان نے جنگ کے دوران 109 سے زائد ملٹری اہداف کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔
بھارت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ چین نے جنگ کے دوران پاکستان کی براہِ راست مدد کی، تاہم کمیشن کا کہنا ہے کہ تعاون کی نوعیت تکنیکی، دفاعی اور انٹیلی جنس شیئرنگ پر مبنی تھی۔
چینی ٹیکنالوجی نے پاکستان کی فضائی برتری میں اہم کردار ادا کیا
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے جنگ کے دوران بھارتی رافیل طیاروں کو نشانہ بنانے میں چین کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ چین نے پاکستان کو نہ صرف حکمتِ عملی پر مبنی انٹیلی جنس فراہم کی بلکہ اس تصادم کو اپنے ہتھیاروں کی عملی آزمائش کے لیے ایک سنہری موقع سمجھا۔
رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ پاکستان نے چینی انٹیلی جنس انفراسٹرکچر کا بھرپور فائدہ اٹھایا، جس کے نتیجے میں بھارتی فضائی قوت اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہی۔
چین کے جدید ہتھیاروں کی پہلی عملی آزمائش
رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب چین کے جدید ترین دفاعی اور فضائی ہتھیار براہِ راست جنگی ماحول میں استعمال ہوئے، جن میں شامل ہیں:
- HQ-9 میزائل ڈیفنس سسٹم
- PL-15 ایئر ٹو ایئر میزائلز
- J-10 لڑاکا طیارے
کمیشن کے مطابق جنگ کے دوران ان ہتھیاروں کی کارکردگی چین کے لیے مستقبل کی اسلحہ فروخت کا ایک اہم ثبوت بن گئی۔
پاکستان اور چین کا بڑھتا ہوا عسکری تعاون
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ چین نے 2024 اور 2025 میں پاکستان کے ساتھ عسکری تعلقات مزید مضبوط کیے۔ مشترکہ مشقیں، انسدادِ دہشت گردی ڈرلز اور ملٹری ٹیکنالوجی کا تبادلہ دو طرفہ اعتماد کی علامت قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جون 2025 میں چین نے پاکستان کو جدید ترین اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دی، جن میں شامل ہیں:
- J-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے
- KJ-500 ایئرکرافٹ
- بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹمز
یہ منظوری پاک فضائیہ کی صلاحیتوں میں بڑا اضافہ تصور کی جاتی ہے۔
پاکستان کا دفاعی بجٹ 20 فیصد بڑھا
رپورٹ کے مطابق جنگ کے فوراً بعد پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں مجموعی کمی کے باوجود دفاعی اخراجات 9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ کمیشن کے مطابق پاکستان نے اس بجٹ اضافے کو ’’خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر دفاعی تقاضہ‘‘ قرار دیا۔
RabtaKraft – Stay Connected With Us!
🌐 Website: https://rabtakraft.com
📘 Facebook Page: https://facebook.com/rabtakraft
📸 Instagram: https://instagram.com/rabtakraft
🎵 TikTok: https://tiktok.com/@rabtakraft
📧 Email: rabtakraft@gmail.com

