استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی | نئی موبائل پالیسی 2026–33
وفاقی حکومت نے نئی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026–33 کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی موبائل مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کو عالمی برانڈز کے لیے ایک برآمدی مرکز بنانا ہے۔
یہ پالیسی انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) نے مقامی موبائل فون مینوفیکچررز کے تعاون سے تیار کی، جسے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کی۔
پالیسی کا پس منظر اور مقصد
حکومتی حکام کے مطابق نئی پالیسی بھارت، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے کامیاب ماڈلز کو مدِنظر رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے، جہاں مقامی اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ کے ذریعے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کا مرکزی ہدف مقامی صنعت کو مضبوط کرنا، ہائی ٹیک سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور پائیدار صنعتی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
استعمال شدہ موبائل فونز پر پابندی کیوں؟
پالیسی کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی اس لیے تجویز کی گئی ہے تاکہ:
- مقامی اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ کو نقصان سے بچایا جا سکے
- انڈر انوائسنگ اور ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ہو
- صارفین کو معیاری اور تصدیق شدہ موبائل فونز فراہم کیے جا سکیں
اسمبلنگ اور پرزہ جات سے متعلق نئی شرائط
نئی پالیسی کے مطابق:
- اسمارٹ فونز کے لیے SKD کِٹ میں کم از کم 40 پرزے لازمی ہوں گے
- فیچر فونز کے لیے 15 پرزے ضروری قرار دیے گئے ہیں
- مقامی سطح پر مدر بورڈز، پی سی بیز، الیکٹرانک پرزہ جات اور ڈسپلے کمپوننٹس کی تیاری پر خصوصی توجہ دی جائے گی
ٹیکس اور ٹیرف سے متعلق اہم فیصلے
- مکمل تیار شدہ موبائل فونز (CBU) اور مقامی طور پر تیار کردہ فونز کو سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی سفارش
- CBU اور SKD درآمدات کے درمیان کم از کم 30 فیصد ٹیرف فرق مقرر کرنے کی تجویز
- ٹیکس انکریمنٹ فنانسنگ (TIF) کو برآمدی اہداف سے مشروط کرنے کی تجویز
ان اقدامات کا مقصد انڈر انوائسنگ کی روک تھام اور مقامی صنعت کو مسابقتی بنانا ہے۔
عالمی برانڈز کی پاکستان میں دلچسپی
اجلاس میں موبائل فون مینوفیکچررز نے حکومت کو آگاہ کیا کہ سام سنگ، شیاؤمی، اوپو، ویوو اور نوکیا سمیت دیگر معروف عالمی برانڈز نئی پالیسی کے تحت پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق اس سے نہ صرف موبائل سیکٹر بلکہ دیگر الیکٹرانک صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
سخت عملدرآمد اور سزائیں
پالیسی کے تحت:
- لوکلائزیشن اہداف یا رپورٹنگ تقاضوں کی خلاف ورزی پر مراعات واپس لی جا سکتی ہیں
- عدم تعمیل کی صورت میں درآمدی لائسنس معطل اور مالی جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں
نئی موبائل مینوفیکچرنگ پالیسی 2026–33 پاکستان کی صنعتی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی اور مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستان عالمی ویلیو چین کا مؤثر حصہ بھی بن سکے گا۔
Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

