“A person refueling a vehicle with petrol at a fuel station, representing rising petrol and diesel prices in Pakistan.”

ای سی سی نے پیٹرول اور ڈیزل پر مارجن بڑھا دیے | قیمتوں میں اضافہ – مکمل تفصیل 2025



پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) اور پیٹرول ڈیلرز کے مارجن بڑھانے کی منظوری دے دی، جس کے نتیجے میں عوام پر فی لیٹر 2 روپے 56 پیسے تک اضافی بوجھ منتقل ہو گیا ہے۔

یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے او ایم سیز کو بہتر مالی سپورٹ فراہم کرنے اور ڈیلرز کے کمیشنز کو مارکیٹ ریئلٹی کے مطابق اپڈیٹ کرنے کے مقصد سے لیا گیا ہے۔ تاہم اس کا براہِ راست اثر ملک بھر کے صارفین پر پڑے گا۔


ای سی سی کے فیصلے کی تفصیل

ذرائع کے مطابق اجلاس میں او ایم سیز اور ڈیلرز کے مارجن میں 5 سے 10 فیصد اضافہ منظور کیا گیا ہے، جبکہ اس فیصلے کے تحت قیمتوں میں درج ذیل تبدیلیاں شامل ہیں:

1️⃣ فوری اثر

  • صارفین پر فی لیٹر 1.28 روپے کا اضافی بوجھ فوراً لاگو کر دیا گیا۔

2️⃣ پیٹرول پر اضافہ

  • آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن 1.22 روپے فی لیٹر بڑھا دیا گیا۔

3️⃣ ڈیزل پر اضافہ

  • ڈیلرز کا کمیشن 1.34 روپے فی لیٹر بڑھا دیا گیا۔

4️⃣ ڈیجیٹلائزیشن شرط

ای سی سی نے واضح کیا کہ مارجن میں باقی اضافہ پیٹرولیم سیکٹر کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن سے منسلک ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی گئی ہے کہ یکم جون 2026 تک مکمل رپورٹ ای سی سی میں جمع کرائی جائے۔


عوام پر اثرات

مارجن میں اضافے کا براہِ راست اثر ملک بھر کے صارفین پر پڑے گا۔

  • روزمرہ سفر مزید مہنگا ہوگا
  • مال برداری اور ٹرانسپورٹ لاگت بڑھنے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں
  • ڈیزل پر اضافے سے انڈسٹری اور زراعت کی لاگت بھی بڑھے گی

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے مہنگائی کی مار جھیلنے والی عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔


حکومتی مؤقف

حکومت کا کہنا ہے کہ او ایم سیز کے مارجن میں اضافہ ضروری تھا تاکہ:

  • سپلائی چین میں رکاوٹ نہ آئے
  • کمپنیوں کی مالی حالت مستحکم رہے
  • ریٹیل سیکٹر میں پائیدار سرمایہ کاری ممکن ہو

تاہم عوامی ردعمل میں واضح تشویش دیکھنے میں آ رہی ہے۔


ای سی سی کا یہ فیصلہ حکومتی اقتصادی پالیسیوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد پیٹرولیم سیکٹر کو بہتر بنانا ہے، مگر اس کا براہِ راست بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ اپنے بجٹ اور ماہانہ اخراجات میں اس اضافے کو مدِنظر رکھیں، کیونکہ آنے والے مہینوں میں مزید مالی دباؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔


Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

https://rabtakraft.com/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*