حکومت نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پابندی لگانے کا اشارہ دے دیا
حکومت کا ایکس پر پابندی لگانے کا اعلان
اسلام آباد سے ملنے والی تازہ معلومات کے مطابق وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پابندی عائد کرنے کا واضح اشارہ دے دیا ہے، اگر وہ پاکستان میں اپنے دفاتر قائم نہ کرے اور ملکی قوانین کے ساتھ تعاون نہ کرے۔ حکومتی عہدیداروں نے اس موقع پر میڈیا کو بریفنگ دی جس میں انہوں نے سیکیورٹی اور قانون کی پاسداری کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ (AP News)
مقامی دفاتر اور تعاون کا مطالبہ
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ حکومت نے سوشل میڈیا ریگولیشن کے تحت پلیٹ فارمز کو پاکستان میں دفاتر بنانے کا باقاعدہ مطالبہ کیا تھا، تاکہ مقامی قوانین اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ بہتر تعاون ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ 24 جولائی کو اس حوالے سے انتباہ بھی جاری کیا گیا تھا، جس میں واضح ہدایت دی گئی تھی۔ (AP News)
انہوں نے نشاندہی کی کہ دہشتگرد سرگرمیوں سے منسلک اکاؤنٹس ایکس پر فعال ہیں، جن میں سے کچھ کے IP ایڈریس بھارت اور افغانستان سے آپریٹ ہو رہے ہیں، جس نے حکومت کو سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ (AP News)
سیکیورٹی اور مواد کے بارے میں تحفظات
طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ اگر بچے سے متعلق غیر اخلاقی مواد خودکار طور پر ڈیلیٹ ہو سکتا ہے تو دہشتگردی میں ملوث مواد کو کیوں نہیں روکا جا سکتا، اور اس حوالہ سے AI کی مدد سے مشتبہ اکاؤنٹس کا مواد ہٹانے کی ضرورت پر زور دیا۔ (AP News)
دوسری جانب وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے سوشل میڈیا کمپنیوں پر دوہرا معیار اپنانے کے الزامات عائد کیے، خاص طور پر فلسطین جیسے حساس معاملات پر انہیں مختلف رویے اپنانے پر تنقید کی۔ (Geo News)
ممکنہ اقدامات اور بین الاقوامی رجحانات
حکومت نے واضح کیا کہ اگر ایکس تعاون نہیں کرتا تو برازیل ماڈل کے مطابق پابندی لگانے، جرمانے یا حتیٰ کہ عالمی عدالت سے رجوع کرنے جیسے آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے، جو دنیا بھر میں سوشل میڈیا پالیسیوں کے نفاذ میں استعمال ہو رہے ہیں۔ (Geo News)
ماضی میں پابندی کا تجربہ
یہ یاد رہے کہ پاکستان نے پہلے بھی X (سابق ٹوئٹر) کی سروسز پر پابندی عائد کی تھی، جو فروری 2024 میں شروع ہوئی اور مئی 2025 میں بحال کی گئی تھی، جس کی وجہ سیکیورٹی خدشات اور قانونی تقاضے تھے۔ (ایکسپریس اردو)
عوامی اور قانونی ردعمل
حکومت کے اس قدم نے سوشل میڈیا ریگولیشن اور آزادی اظہار رائے کے بارے میں بحث بھی شروع کر دی ہے، جس میں کچھ حلقے حکومت کے سخت موقف کو سیکیورٹی کے تناظر میں ضروری قرار دیتے ہیں جبکہ دیگر شہری حقوق اور اظہار رائے کی آزادیت پر اس کے اثرات پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔ (Wikipedia)
Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

