“Cute toddler with big expressive eyes wearing a light cream outfit, standing indoors near a soft pastel-colored background.”

کراچی نیپا سانحہ: 3 سالہ ابراہیم تاحال لاپتا، انتظامیہ کی غفلت پر عوام مشتعل

کراچی (یکم دسمبر 2025) — شہرِ قائد میں انتظامیہ کی مبینہ غفلت ایک اور معصوم جان کو نگل گئی۔ گلشنِ اقبال نیپا پل کے قریب واقع ایک معروف ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے سامنے کھلے مین ہول میں گرنے والا تین سالہ ابراہیم واقعے کے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود تاحال تلاش نہ کیا جاسکا۔ رات بھر جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے باوجود بچے کا کچھ پتا نہیں چل سکا، جس کے باعث علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

عوام میں شدید اشتعال، حکومت کے خلاف نعرے بازی

بچے کی عدم بازیابی پر عوام مشتعل ہوگئی اور بڑی تعداد میں لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہوگئے۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور انتظامیہ پر غفلت کا الزام عائد کیا۔ احتجاج شدت اختیار کرنے پر ریسکیو اہلکاروں کو کئی بار آپریشن روکنا پڑا۔

اس دوران مشتعل افراد نے میڈیا نمائندوں پر بھی شدید غصہ نکالا۔ مظاہرین کے پتھراؤ سے ڈی ایس این جی گاڑی کو نقصان پہنچا جبکہ کئی صحافیوں پر تشدد بھی کیا گیا۔ مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کردی اور مکمل شٹ ڈاؤن جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔

بچے کے والدین کا رونا دھونا، واحد بیٹے کا غم

کھلے گٹر میں گرنے والا بچہ ابراہیم والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور شاہ فیصل کالونی کا رہائشی تھا۔ ماں کی چیخ و پکار، مدد کی دہائیاں اور بے بسی وہاں موجود ہر شخص کو رُلا گئیں۔ اہلخانہ نے حکومت و اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ریسکیو حکام کی ابتدائی رپورٹ

ریسکیو اہلکاروں کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک فیملی اسٹور میں خریداری کے بعد باہر نکلی۔ اسی دوران بچہ کھیلتے ہوئے سڑک کی طرف بھاگا اور اسٹور کے بالکل قریب کھلے ہوئے مین ہول میں جاگرا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ مین ہول پر ڈھکن موجود ہی نہیں تھا، جس نے ایک معصوم کی جان کو خطرے میں ڈال دیا۔

ریسکیو ٹیموں نے جدید آلات کی مدد سے تلاش کا کام جاری رکھا، تاہم پانی کی گہرائی، نالیوں کی پیچیدگی اور راستوں کی بندش تلاش میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

حکومت سندھ کا ردِعمل — “ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی”

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے سانحے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس کی بھی غفلت ثابت ہوئی، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کی ہدایت پر فوری انکوائری شروع کردی گئی ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ مین ہول کا ڈھکن کیوں موجود نہیں تھا۔

ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد کی ہدایات

ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔ انہوں نے ہدایت جاری کی ہیں کہ:

  • بچے کو ہر صورت جلد تلاش کیا جائے
  • جس افسر یا ادارے کی غفلت ثابت ہو، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے

گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا نوٹس

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بچوں کے والدین سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ انہوں نے کہا:

“یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ میں اہلخانہ کے ساتھ ہوں اور ریسکیو اداروں کو ہدایت کی ہے کہ بچے کی تلاش میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔”

شہریوں کا مطالبہ: کھلے مین ہولز بند کیے جائیں

کراچی کے مختلف علاقوں میں کھلے مین ہولز ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں، جس کے باعث کئی جانیں جا چکی ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ:

  • شہر بھر میں کھلے مین ہولز کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت
  • متعلقہ اداروں کے خلاف کارروائی
  • حفاظتی انتظامات میں بہتری
  • غفلت کے مرتکب ملازمین کی فوری معطلی

نیپا پل کا یہ دلخراش سانحہ ایک بار پھر سوال چھوڑ گیا ہے کہ کیا کراچی میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ کب تک ادارے غفلت کی سزا معصوم جانوں کو دیتے رہیں گے؟ اور کیا اب کوئی مؤثر اقدام کیا جائے گا یا یہ واقعہ بھی فائلوں میں دب کر رہ جائے گا؟


Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

https://rabtakraft.com/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*