“A person pouring fresh milk from a metal jug into a large stainless-steel milk container outdoors.”

کراچی میں دودھ کے تمام نمونے مضر صحت قرار، سندھ ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش

کراچی (1 دسمبر 2025) — شہرِ قائد میں فروخت ہونے والا دودھ شہریوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر جمع کرائی گئی لیبارٹری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی سے لیے گئے دودھ کے درجنوں نمونے غیر معیاری، مضر صحت اور انسانی استعمال کے قابل نہیں پائے گئے۔ اس تشویشناک صورتحال نے شہریوں میں شدید اضطراب پیدا کردیا ہے۔

عدالتی کارروائی — دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست کی سماعت

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالتی حکم پر ممبر انسپکشن ٹیم نے دودھ کے کوالٹی ٹیسٹ سے متعلق مفصل رپورٹ پیش کی، جس نے عدالت کو حیران اور پریشان کردیا۔

لیبارٹری رپورٹ: دودھ کا ایک بھی نمونہ قابلِ استعمال نہیں

پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ کے مطابق:

  • شہر بھر سے جمع کیے گئے درجنوں دودھ کے نمونے ٹیسٹ کیے گئے
  • تمام نمونے غیر معیاری اور مضر صحت ثابت ہوئے
  • ایک بھی نمونہ انسانی استعمال کے قابل نہیں تھا

عدالت نے اس رپورٹ کو کیس کا حصہ بناتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دودھ میں ملاوٹ، غیر معیاری کیمیکل، پانی کی آمیزش، اور معیار کی خلاف ورزی بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے، جو شہریوں کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

دوسری جانب قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن بھی پیش

پیر کے روز کمشنر کراچی کی جانب سے دودھ کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا گیا۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ دودھ کی قیمتوں کے تعین کے لیے ڈیری فارمرز، ہول سیلرز اور ریٹیلرز سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی، جس کے بعد 27 نومبر کو نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں:

  • ڈیری فارمز: 200 روپے فی لیٹر
  • ہول سیلرز: 208 روپے فی لیٹر
  • ریٹیلرز: 220 روپے فی لیٹر

قیمت میں اضافہ پہلے ہی عوام پر اضافی بوجھ تھا، مگر اب معیاری دودھ نہ ملنے کی رپورٹ نے شہریوں کے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔

شہریوں میں تشویش — ملاوٹ مافیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

دودھ کے مضر صحت ثابت ہونے کے بعد شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:

  • ملاوٹ مافیا کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے
  • PSQCA اور دیگر اداروں کی نگرانی بہتر بنائی جائے
  • مارکیٹوں میں سخت چیکنگ کو یقینی بنایا جائے
  • دودھ کی فروخت کے باقاعدہ لائسنس اور کوالٹی سرٹیفکیٹ لازم کیے جائیں

صارفین کا کہنا ہے کہ “مہنگا دودھ تو مل ہی رہا ہے، اب یہ بھی پتا چلا کہ وہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے، تو ہم آخر جائیں کہاں؟”

نتیجہ — سنگین غفلت یا کمزور نظام؟

کراچی میں دودھ کی کوالٹی سے متعلق سامنے آنے والی یہ رپورٹ نہ صرف انتظامی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ عوام کے صحت و سلامتی سے متعلق حکومتی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان چھوڑتی ہے۔ عدالت کی جانب سے آئندہ سماعت میں مزید وضاحت اور اقدامات کی توقع کی جارہی ہے۔


Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

https://rabtakraft.com/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*