قومی اسمبلی اجلاس میں کورم پورا نہ ہوسکا — حکومت کارروائی چلانے میں ناکام
قومی اسمبلی کے تازہ اجلاس میں ایک مرتبہ پھر کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ یہ صورتحال نہ صرف پارلیمانی کارکردگی پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ حکومتی و اپوزیشن دونوں جماعتوں کی حاضری اور سنجیدگی کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
اجلاس کا آغاز اور کورم کی نشاندہی
اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن رکن قومی اسمبلی محبوب جان نے کورم کی نشاندہی کی۔
پارلیمانی قواعد کے مطابق جب کوئی رکن کورم کی نشاندہی کرے تو اسپیکر کو ایوان میں موجود ارکان کی گنتی کروانا لازمی ہوتا ہے۔
گنتی کے بعد معلوم ہوا کہ کورم پورا نہیں تھا۔
کورم کیوں ضروری ہے؟
پاکستانی آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد کے مطابق:
- ایوان کی کارروائی مؤثر طور پر چلانے کے لیے کم از کم 84 ارکان کی موجودگی ضروری ہے۔
- حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے پاس 240 سے زائد نشستیں ہیں، اس کے باوجود کورم پورا نہ ہونا ایک اہم مسئلہ ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ یا تو ارکان اجلاس میں دلچسپی نہیں رکھتے،
یا وہ پارلیمانی معاملات کو وہ ترجیح نہیں دے رہے جو ضروری ہے۔
اسپیکر کا فیصلہ
کورم پورا نہ ہونے کے باعث اسپیکر سردار ایاز صادق نے:
- قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی معطل کی
- اور اجلاس کو پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کردیا
یہ پارلیمانی تاریخ میں کوئی نیا واقعہ نہیں، مگر بار بار ایسا ہونا جمہوری عمل کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے۔
سیاسی ماہرین کی رائے (غیر جانبدارانہ تجزیہ)
سیاسی مبصرین کے مطابق:
- حکومتی ارکان کی عدم دلچسپی
چونکہ حکومت ایوان میں واضح اکثریت رکھتی ہے، اس لیے کورم نہ ہونا ان کی ذمہ داری پر سوال اٹھاتا ہے۔ - اپوزیشن کا دباؤ بڑھانا
کورم کی نشاندہی اپوزیشن کا آئینی حق ہے، اور یہ عموماً حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ - پارلیمانی ذمہ داری کا بحران
کورم پورا نہ ہونا دونوں اطراف کی پارلیمانی ترجیحات پر سوال کھڑے کرتا ہے۔
عوامی ردِعمل — ایک بڑھتی ہوئی بے چینی
عوامی حلقوں میں یہ سوال عام ہے کہ:
- جب اہم قومی فیصلے ایوان میں ہونے ہیں،
- جب معاشی و سیاسی معاملات حساس صورتحال میں ہیں،
تو پھر عوام کے منتخب نمائندے ایوان میں موجود کیوں نہیں؟
یہ صورتحال جمہوریت کے تسلسل اور پارلیمانی عمل کی مضبوطی کے لیے مناسب نہیں۔
قومی اسمبلی میں کورم کا بار بار پورا نہ ہونا ایک انتظامی نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
یہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے یاددہانی ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی صرف باتوں سے نہیں، ارکان کی موجودگی، سنجیدگی اور فعال کردار سے قائم ہوتی ہے۔
اگلے اجلاس میں نظر اس بات پر رہے گی کہ آیا یہ مسئلہ دوبارہ سامنے آتا ہے یا ایوان اپنی کارکردگی بہتر بناتا ہے۔
Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

