وفاقی حکومت کا سائبر سکیورٹی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک بھر میں بڑھتے ہوئے سائبر خطرات اور ڈیجیٹل سکیورٹی کے مضبوط نظام کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی سطح پر سائبر سکیورٹی اتھارٹی قائم کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وزارتِ آئی ٹی نے سائبر سکیورٹی ایکٹ کا ابتدائی مسودہ تیار کر کے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت کے لیے ارسال کر دیا۔
سائبر سکیورٹی اتھارٹی کی ضرورت کیوں پڑی؟
گزشتہ چند برسوں میں:
- سرکاری اداروں
- مالیاتی نظام
- حساس ڈیٹا
- اور شہریوں کی نجی معلومات
کو ہدف بنانے والے سائبر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث قومی سطح پر ایک مضبوط ڈیجیٹل دفاعی ڈھانچے کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ نئی اتھارٹی کے قیام سے:
- قومی ڈیٹا
- اہم انفرا اسٹرکچر
- اور سرکاری نظام
کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے گا۔
وزارت آئی ٹی کا ابتدائی مسودہ — اہم نکات
وزارت آئی ٹی کی جانب سے جاری دستاویز کے مطابق:
1. نیشنل سائبر سکیورٹی پالیسی کا اطلاق جاری ہے
یہ پالیسی ملک گیر ڈیجیٹل پروٹیکشن فریم ورک فراہم کرتی ہے، جس کا نفاذ ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروگرام کے تحت زور و شور سے جاری ہے۔
2. ڈیجیٹل سکیورٹی کے بنیادی منصوبوں پر پیش رفت
- Secure Data Exchange Layer
- Digital Identity Framework
کے منصوبوں پر اہم پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔
3. حساس ڈیٹا کا تحفظ
وزارت آئی ٹی نے واضح کیا ہے کہ:
- نادرا
- ایف بی آر
- ٹیلی کام سیکٹر
کے ڈیٹا کو اہم قومی ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر قرار دے دیا گیا ہے، جس کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
سائبر سکیورٹی اتھارٹی کیا کرے گی؟
نئی اتھارٹی کے اختیارات اور ذمہ داریاں درج ذیل ہوں گی:
1. اہم قومی انفرا اسٹرکچر کی حفاظت
اتھارٹی قومی سطح کے حساس ڈیٹا اور سسٹمز کی سکیورٹی کے لیے سائبر پروٹیکشن اقدامات تجویز کرے گی۔
2. سائبر سکیورٹی اقدامات کا نفاذ
ملک بھر میں سائبر سکیورٹی سے متعلق حکومتی پالیسیوں، ضوابط اور سٹینڈرڈز کو نافذ کرنا اتھارٹی کی ذمہ داری ہوگی۔
3. اداروں کی مسلسل نگرانی
سرکاری و نجی اداروں میں:
- Vulnerability audit
- Monitoring systems
- Incident response mechanisms
کو لازمی بنایا جائے گا۔
4. ہنگامی ردعمل کا نظام
اتھارٹی سائبر حملوں کی صورت میں بروقت کارروائی اور قومی سطح پر رابطہ کاری کے نظام کو بہتر کرے گی۔
اگلے مراحل کیا ہوں گے؟
مسودے پر اسٹیک ہولڈرز کی رائے حاصل کرنے کے بعد:
- سائبر سکیورٹی بل کو کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا
- منظوری کے بعد یہ بل پارلیمنٹ میں پیش ہوگا
- بل منظور ہوتے ہی سائبر سکیورٹی اتھارٹی باضابطہ طور پر کام شروع کر دے گی
ذرائع کے مطابق حکومت اس اتھارٹی کو جدید ٹیکنالوجی، ورک فورس اور عالمی معیار کے نظام سے لیس کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft |
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/ |
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/ |
Website: https://rabtakraft.com/

