Members of a parliamentary assembly seated in a large hall during an official session, with one man standing and speaking while others listen attentively.

قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق 2025 منظور | اقلیتوں کے بل پر پارلیمنٹ میں تاریخی ووٹ – RabtaKraft

اسلام آباد: پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کیلئے ایک اہم بل “قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق 2025ء” منظور کرلیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں یہ بل کثرت رائے سے منظور ہوا، جس کے حق میں 160 جبکہ مخالفت میں 79 ووٹ پڑے۔

بل کی منظوری کا عمل

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل سپریم کورٹ کے 2014ء کے فیصلے کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ایک کمیشن قائم کرنے کی سمت اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور ان کے اراکین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس بل میں تعمیری ترامیم پیش کیں۔

اہم نکات اور بیانات

وزیر قانون کا موقف

اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ “قانون میں واضح ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں”، اس طرح اقلیتی برادریوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے ابہام دور ہوا۔

مولانا فضل الرحمان کا مؤقف

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ “بل کے آغاز میں لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کا تقاضا ہے، آپ نے آئین پاکستان کا حلف اٹھایا ہے یا اقوام متحدہ کا؟” انہوں نے کہا کہ وہ جائز مخالفت کرتے ہیں اور مغرب کی خواہشات کی پیروی کے خلاف ہیں۔

اسحاق ڈار کی رائے

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور کامران مرتضیٰ کی ترامیم کو حکومت نے قبول کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ “ہمارا جان مال رسول ﷺ پر قربان، حکومتیں کسی کی وراثت نہیں، یہ آنی جانی ہیں”۔

سیاسی جماعتوں کی پوزیشن

  • حکومتی جماعتوں نے بل کی حمایت کی
  • مولانا فضل الرحمان نے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کیا
  • بل کو کثرت رائے سے منظور کیا گیا

تاریخی تناظر

مولانا فضل الرحمان نے 1973ء کے آئین، 18ویں ترمیم اور حالیہ آئینی ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “27 ویں آئینی ترمیم میں کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا”۔ انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز پر عمل نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

نئی قانون سازی کے اثرات

یہ بل مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر اہم ہے:

  1. اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے مستقل کمیشن کا قیام
  2. بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد
  3. اقلیتی برادریوں کے مسائل کے حل کیلئے ادارہ جاتی نظام
  4. قادیانی برادری کی قانونی حیثیت کی وضاحت

مستقبل کے امکانات

ماہرین کے مطابق یہ بل پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی سمت اہم قدم ہے، تاہم اس پر مختلف سیاسی اور مذہبی حلقوں میں بحث جاری رہنے کی توقع ہے۔

اس قانونی پیشرفت سے پاکستان میں اقلیتی برادریوں کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی اور ان کے مسائل کے حل کیلئے ایک مربوط نظام تشکیل دینے میں مدد ملے گی، جس سے معاشرتی انصاف اور شمولیت کو فروغ حاصل ہوگا۔


Fully Updated Rehny K Liye Humary Social Accounts Follow Karein:
TikTok: https://www.tiktok.com/@rabtakraft
Facebook: https://www.facebook.com/RabtaKraftKarachi/
Instagram: https://www.instagram.com/rabtakraft/
Website: https://rabtakraft.com/

https://rabtakraft.com/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*
*